Monday, 18 January 2016

Zilla Parishad Urdu High & Jr. College Wani

सूरतुल फ़ातिहा Al- Fatiha

सूरतुल फ़ातिहा Al- Fatiha

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
مَٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ
ٱهْدِنَا ٱلصِّرَٰطَ ٱلْمُسْتَقِيمَ
صِرَٰطَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ ٱلْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا ٱلضَّآلِّينَ


बिस्मिल्लाहिर रहमानिर रहीम


सूरतुल फ़ातिहा
मक्का में उतरी : आयतें सात, रुकु एक, अल्लाह के नाम सेशुरु जो बहुत मेहरबान रहमतवाला
1. सब खू़बियाँ अल्लाह को जो मालिक सारे जहान वालों का
2. बहुत मेहरबान रहमत वाला
3. रोज़े जज़ा (इन्साफ के दिन) का मालिक
4. हम तुझी को पूजें और तुझी से मदद चाहें
5. हमको सीधा रास्ता चला
6. रास्ता उनका जिन पर तूने एहसान किया
7. उन का जिन पर ग़ज़ब (प्रकोप) हुआ और बहके हुओं का

Wednesday, 17 September 2014

حسرت موہانی


غزل  - حسرت موہانی

جہاں تک ہم ان کو بہلاتے رہے ہیں
وہ کچھ اور بھی یاد آتے رہے ہیں

انہیں حال دل ہم سناتے رہے ہیں
وہ خاموش زلفیں بناتے رہے ہیں

محبت کی تاریکی یاس میں بھی
چراغ ہوس جھلملاتے رہے ہیں

جفا کار کہتے رہے ہیں جنہیں ہم
انہیں کی طرف پھر بھی جاتے رہے ہیں

وہ سوتے رہے ہیں الگ ہم سے جب تک
مسلسل ہم آنسو بھاتے رہے ہیں

بگڑ کر جب آئے ہیں ان سے تو آخر
انہیں کو ہم الٹے مناتے رہے ہیں

وہ سنتے رہے مجھ سے افسانہ غم
مگر یہ بھی ہے مسکراتے رہے ہیں

نہ ہم ہیں نہ ہم تھے ہوس کار حسرت
وہ ناحق ہمیں آزماتے رہے ہیں

Tuesday, 17 December 2013

یہ شوخیِ نگاہ کسی پر عیاں نہیں

تاثیرِ دردِ عشق کہاں ہے کہاں نہیں


عشق اس طرح مٹا کہ عدم تک نشاں نہیں
آ سامنے کہ میں بھی تو اب درمیاں نہیں

مجھ کو بھی اپنے حال کا وہم و گماں نہیں
تم راز داں نہیں تو کوئی راز داں نہیں

صیّاد اس طرح تو فریبِ سکوں نہ دے
اس درجہ تو مجھے بھی غمِ آشیاں نہیں

اس درگزر سے اور کھُلا عشق کا بھرم
یہ کیا ہوا کہ مجھ سے وہ اب سرگراں نہیں

پس ماندگان اب اور ہی ڈھونڈیں دلیلِ راہ
اتنی بلند گردِ رہِ کارواں نہیں

محوِ سکوتِ ناز ازل سے ہے بزمِ عشق
قصہ نہیں، فسانہ نہیں، داستاں نہیں

ہیں پرسشِ نہاں کے بھی عنوان سینکڑوں
اتنا ترا سکوتِ نظر بے زباں نہیں

اے دوست اہلِ درد کے رازِ سکوں نہ پوچھ
مدت ہوئی نگاہ تری درمیاں نہیں

کیا حشر دیکھئے ہو اب اس اعتدال کا
سنتے ہیں عشق درپے آزارِ جاں نہیں

کیا حشرِ وعدہ، کیا رگِ جاں، کیا حریمِ راز
یہ جانتا ہوں تو ہے جہاں میں وہاں نہیں

ہمدم دیارِ دل کی جنوں خیزیاں ہیں اور
زنداں نہیں ہے، دشت نہیں، گلستاں نہیں

تھا حاصلِ حیات بس اِک عشوۂ نہاں
اب یہ نہ پوچھ عشق کہاں ہے کہاں نہیں

کیا واقعی فریب ہے اے دل حیاتِ عشق
کیوں مژدۂ وصال سے میں شادماں نہیں

ہستی کے انقلاب کو کیا کیجئے فراق
مانا کہ ہجرِ یارِ غمِ جاوداں نہیں

( از فراق گورکھپوری)

شوق سے ناکامی کی بدولت کوچۂ  دل ہی چھوٹ گیا

ساری اُمیدیں ٹوٹ گئیں، دل بیٹھ گیا، جی چھوٹ گیا


فصلِ گل آئی یا اجل آئی، کیوں در زنداں کھلتا ہے

کیا کوئی وحشی اور آ پہنچا یا کوئی قیدی چھوٹ گیا


کیجئے کیا دامن کی خبر اور دستِ جنوں کو کیا کہیئے

اپنے ہی ہاتھ سے دل کا دامن مدت گذری چھوٹ گیا


منزل عشق پہ تنہا پہنچے، کوئی تمنا ساتھ نہ تھی

تھک تھک کر اس راہ میں آخر اک اک ساتھی چھوٹ گیا


فانی ہم تو جیتے جی وہ میت ہیں بے گور و کفن

غربت جس کو راس نہ آئی اور وطن بھی چھوٹ گیا

Sunday, 15 December 2013

عالم ِآب و خٓک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرہ ریگ کو دیا تونے طلوع آفتاب
شوق  ترا اگر نہ ہو میری  نماز کا امام
میرا قیام  بھی حجاب میرا سجود  بھی  حجاب!